منگل 13 اکتوبر 2026 - 18:04
اقتدار، عدلیہ اور جمہوریت؛ نئی نسل کے سوالات

حوزہ/ حکومت کے خلاف تحریکیں تو اس سے پہلے بھی وجود میں آئی تھیں، مگر یا تو ان پر توجہ نہیں دی گئی یا انہیں بدنام کرکے ختم کردیا گیا۔ کسان تحریک ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہی، مگر وزیر اعظم مودی نے کسان رہنماؤں سے ملاقات تک نہیں کی۔

تحریر: عادل فراز

حوزہ نیوز ایجنسی|

’ووٹ چوری‘ کے خلاف پورے ہندوستان میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ جین زی کے ساتھ اپوزیشن بھی سڑکوں پر جدوجہد کررہا ہے۔ حکومت کی آمریت کے خلاف پہلی بار اتنی بڑی تحریک وجود میں آئی ہے۔ حزب اختلاف مسلسل الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کررہا ہے۔ ایس آئی آر کے خلاف ۱۲ اکتوبر کو عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی گئی۔ کانگریس احتجاج کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ تک گئی۔ یہ تاریخی احتجاجی مارچ تھا، جس کی گونج یقیناً ایوان اقتدار کے ساتھ عدالت عظمیٰ تک بھی پہنچی ہوگی۔

حکومت کے خلاف تحریکیں تو اس سے پہلے بھی وجود میں آئی تھیں، مگر یا تو ان پر توجہ نہیں دی گئی یا انہیں بدنام کرکے ختم کردیا گیا۔ کسان تحریک ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہی، مگر وزیر اعظم مودی نے کسان رہنماؤں سے ملاقات تک نہیں کی۔ اس تحریک کے دوران سینکڑوں لوگ جاں بحق ہوئے۔ کسان دہلی کی سرحد پر شدید گرمی اور کڑکڑاتی ٹھنڈ میں زیرِ آسمان بیٹھے رہے، مگر اقتدار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ حتیٰ کہ ہندوستان کے شہروں میں رہنے والی بڑی آبادی کسانوں کو حزب اختلاف اور بنیوں کا آلۂ کار تصور کرنے لگی۔بظاہر حکومت کو یہ اعتماد تھا کہ ملک کی اکثریت اس کی حامی ہے، لہٰذا کسانوں کے احتجاج کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔

مودی کے اقتدار میں دوسری بڑی تحریک شاہین باغ سے شروع ہوئی ۔ سی اے اے اور این آر سی کے نفاذ کے خلاف خواتین شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھیں۔ چونکہ یہ تحریک مسلمانوں کے وجود کی جنگ تھی، لہٰذا حکومت اور یرقانی تنظیموں نے اس کو بدنام کرنے کی پوری کوشش کی۔ شاہین باغ کی خواتین کو کیا کچھ نہیں کہاگیا۔ مظاہرین کو ’اربن نکسل‘ سے تشبیہ دی گئی۔ وزیر اعظم فسادیوں کو ان کے کپڑوں سے پہچاننے لگے۔ بی جے پی کے وزرا سرعام گولی مارنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ان تمام واقعات پر نہ تو حقوق انسانی کی تنظیمیں آگے آئیں اور نہ عدالت عظمیٰ نے ازخود کوئی نوٹس لیا۔ مقدموں کی سماعت میں بھی آئین سے چشم پوشی کی گئی، جس طرح بابری مسجد مقدمے کے فیصلے میں آئین کو بالائے طاق رکھ کر ’آستھا‘ کو ترجیح دی گئی تھی۔ شاہین باغ تحریک کووڈ کی وجہ سے ختم ہوئی، لیکن حکومت اور اس کے حامیوں نے اس کو ناکام قرار دیا۔اس کے بعد مسلمانوں کے تشخص اور عبادت گاہوں پر منظم حملے شروع ہوئے۔ ہجومی تشدد کے واقعات میں آئے دن اضافہ ہوتا گیا۔ ٹرینوں اور بسوں کا سفر بھی محفوظ نہیں رہا۔ان واقعات کے سلسلے میں حکومت اور انتظامیہ کے کردار پر سوال اٹھتے رہے۔۔ نوجوان نسل بھی یہ سمجھتی کہ’ پنکچر بنانے والی قوم ‘کے ساتھ یہی سلوک ہوناچاہیے۔مگر جب تعلیمی نظام پر ضرب لگی اور نوجوانوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا، تو پہلی بار ایسی تحریک نے جنم لیا، جس کا تعلق کسی ایک طبقے، قوم یا گروہ سے نہیں تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے نئی نسل کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی، تو نئی نسل کاکروچوں کی طرح سڑکوں پر نکل آئی۔ اس تحریک کا اثر یہ ہوا کہ پہلی بار مودی حکومت میں کسی وزیر کو بادلِ نخواستہ مستعفی ہونا پڑا۔

ایس آئی آر کے عمل پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس سے ’ووٹ چوری‘ کو تقویت مل رہی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ووٹ حذف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مجاز ووٹروں کو بھی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر دلتوں اور مسلمانوں کے ووٹ حذف کیے جانے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں کی طرف سے اس معاملے پر کوئی مؤثر صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔ مسلم رہنما اور علماء بھی کسی نمایاں احتجاج میں نظر نہیں آئے۔مسلم رہنماؤں اور علماء کے بارے میں مسلمانوں کی بیداری بھی اشد ضروری ہے۔ ان کی بڑی تعداد کے آر ایس ایس اور اس کی ذیلی شاخوں، جیسے مسلم راشٹریہ منچ، سے وابستہ ہونے کے حوالے سے سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کے بیانات پر کان دھرنے کے بجائے ان کے موقف اور وابستگیوں کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ جہاں ان کے بیانات یا اقدامات ملت کے مفادات سے متصادم نظر آئیں، وہاں ان سے جواب دہی کا مطالبہ کیا جانا چاہیے، تاکہ ’ملت فروشی‘ کے رجحان پر روک لگائی جاسکے۔

۱۰ اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج ہونا تھا، مگر پولیس نے متعدد اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ ابھیجیت دیپکے اور ان کے ساتھیوں کو فلائٹ سے ہی باہر نکلنے نہیں دیاگیا۔، جبکہ دھرو راٹھی کو ان کے گھر سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ احتجاج کے پیش نظر دہلی کے میٹرو اسٹیشنوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش نے بھی کئی سوالات پیدا کیے۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے دہلی آنے والی متعدد ٹرینیں بھی منسوخ کردی گئیں۔ جنتر منتر پر بیس ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی اطلاع سامنے آئی۔ کاش اتنی بڑی تعداد میں پولیس اہلکار منی پور میں بھی تعینات کیے گئے ہوتے تو شاید جانی نقصان کو کم کرنے میں مدد ملتی۔ اگر پہلگام میں بھی ایسے مؤثر حفاظتی انتظامات کیے گئے ہوتے تو ممکن ہے بے گناہ سیاحوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔بہرحال! ۱۰ اکتوبر کو ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس کے بعد گیارہ اکتوبر کو الگ الگ ریاستوں میں مظاہرے ہوئے۔ ۱۲ اکتوبر کو حزب اختلاف نے بارہ کھمبا روڈ سے عدالت عظمیٰ تک پیدل مارچ کیا اور عرضی داخل کرکے ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کیا۔

جین زی اور حزب اختلاف کو عدالت عظمیٰ سے غیر معمولی توقعات وابستہ کرنے کے بجائے اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جمہوری اداروں سے انصاف کے حصول کا عمل اکثر طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ ممکن ہے چیف جسٹس نے بھی احتجاجی مظاہروں کی اہمیت اور ان سے اٹھنے والے سوالات کو محسوس کیا ہو، لیکن محض عدالتی سماعتوں سے ان مسائل کا حل نکل آنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ جن حالات میں نئی نسل کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی گئی، ان پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں نوجوانوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں سننا اور ان کے سوالات کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔حزب اختلاف نے چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مانگا تھا، مگر ان کے پاس اس ملاقات کی فرصت نہیں تھی۔ ایسے حالات میں کپل سبل کا یہ کہنا کہ ’ہمیں عدالت عظمیٰ پر اعتماد نہیں رہا‘، عدالتی اداروں پر عوامی اعتماد کے حوالے سے ایک اہم سوال کی نشان دہی کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران ان سے اعتماد برقرار رکھنے کی گزارش کی۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ عدالتی اداروں کی غیر جانب داری اور ان پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اپوزیشن اور جین زی کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جمہوریت اور آئین کی بقا کے لیے مسلسل جدوجہد ناگزیر ہے۔ انصاف کے حصول میں عوامی بیداری، آئینی دائرے میں احتجاج اور جمہوری اداروں سے جواب دہی کا مطالبہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ عدالتوں کی آزادی اور غیر جانب داری جمہوری نظام کی بنیاد ہے، لیکن جب عدالتی فیصلوں یا بعض سابق ججوں کے کردار پر سوالات اٹھتے ہیں تو ان کا جواب شفافیت، آئینی اصولوں اور غیر جانب دارانہ طرز عمل سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ سابق چیف جسٹس گوگوئی اور چندرچوڈ کے ادوار سے متعلق مباحث بھی اسی تناظر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔جمہوریت کے تحفظ کے لیے مزاحمت سے بڑی کوئی طاقت نہیں، بشرطیکہ یہ مزاحمت آئینی اقدار، عوامی شعور اور پُرامن جدوجہد سے وابستہ ہو۔ جب تک شہری اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کریں گے اور اقتدار سے جواب دہی کا مطالبہ نہیں کریں گے، اس وقت تک ملک میں امن و انصاف کی بالادستی کا تصور محال رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha